ذرافہ کے پانی پینے کے متعلق دلچسپ تحریر

پانی پینے کے لیے جتنی مشقت زرافہ کرتا ہے، اتنی اور کوئی جاندار نہیں کرتا۔ زیرِ نظر تصاویرشمالی افریقہ کے ملک نمیبیاکے ای ٹوشا نیشنل پارک کی ہیں جہاں ایک زرافہ پانی پی رہا ہے جبکہ اس کے پیچھے کویلیا  چڑیوں کا ایک غول اڑان بھر رہا ہے۔ یہ تصاویر ایک خبر رساں ادارے CGTN نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کی ہیں۔

زرافہ اس دنیا کا سب سے بلند قامت چوپایہ ہے جو بر اعظم افریقہ کے مختلف ممالک جیسا کہ کینیا، نمیبیا، جنوبی افریقہ، چاڈ، صومالیہ،تنزانیہ اور بوٹسوانا وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔زرافہ ان ممالیہ  جانوروں میں سے ایک ہے جن کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ گزشتہ تیس برس میں اس کی تعدادمیں تقریباً 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس کا غیر قانونی شکار ہے۔ اس وقت دنیا میں زرافوں کی مجموعی تعداد تقریباً 70سے 90 ہزار کے درمیان ہے۔

زرافوں کا قد بالعموم 14 سے 18 فٹ کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اس کی 4 سے 6 فٹ کی گردن بھی جانداروں میں سب سے لمبی ہے۔ اپنی اس لمبی گردن کی بدولت زرافہ درختوں کی اونچی شاخوں پر لگے پتے بآسانی کھا سکتا ہے اور اپنے گرد و نواح پر بھی اچھی طرح نظر رکھتا ہے لیکن جب اسے پیاس لگتی ہے تو یہی لمبی گردن اس کے لیے مصیبت کا باعث بن جاتی ہے۔ پانی پینے سے پہلے زرافے کو اپنی اگلی ٹانگیں غیر معمولی حد تک کھول کر اپنے جسم کا سارا وزن ان پر ڈالنا پڑتا ہے ۔ پھر وہ اپنی لمبی گردن کو آہستہ آہستہ جھکاتے ہوئے کئی فٹ نیچے لا تا ہے اور تب کہیں جا کر اسے پانی نصیب ہوتا ہے۔ اس دوران اسےدرندوں سے چوکنا رہنے کے لیے بار بار اپنی گردن کو اٹھا کر گردو نواح کا جائزہ بھی لینا پڑتا ہے۔تاہم قدرت نے اس کے جسم میں کچھ ایسی خصوصیات بھی رکھی ہیں جو اس مشقت طلب کام میں اس کی مدد کرتی ہیں۔زرافے کی گردن اور ٹانگوں کے پٹھوں میں خاصی لچک پائی جاتی ہے جس کی بنا پر وہ اپنی ٹانگوں کو غیر معمولی حد تک پھیلا تے ہوئے اپنی گردن کو بھی 18 فٹ تک جھکالیتا ہے۔ زرافے کے دل کے علاوہ اس کے دماغ کو خون مہیا کرنے والی شریانوں  میں بھی والو موجود ہوتے ہیں اور جب زرافہ پانی پینے کے لیے اپنی گردن کوجھکاتا ہے تو یہ والو اس کے دورانِ خون کو کنٹرول کرتے جس سے اس کے دماغ کی شریانیں بلڈ پریشر کی زیادتی کے باعث پھٹنے سے محفوظ رہتی ہیں۔

۔

Check Also

نہ عقل ہے نہ شکل ہے

ہمارے قریب کے دیہات کا ایک واقعہ ہے۔ ایک نوجوان جس کی تعلیم بھی نہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *