وقت آ گیا ہے کہ مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہیں

وقت آ گیا ہے کہ مساجد میں کچھ  تبدیلیاں کرنی چاہیں

بہت ہو چکا مساجد کے درودیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلإ کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس  و جھومر پر، ایئر کنڈیشن اورائر کولرز پر اور نفیس قالینوں پر خرچ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں

مگر کیسے۔ ۔ ۔ ۔؟

چند تجاویز

۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو

۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی ہو۔

۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو

۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے

۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو

۔ آپس میں رشتے ناتے کرنے کیلیۓ ضروری واقفیت کا موقع ملے

۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ

۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلیۓ اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو

۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو

۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کیلیۓ دستیاب ہوں

قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے

اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں

ان میں سے کوئی بھی تجویز  نہیں ہے ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی ﷺ کے مدینہ میں بھی ہوتے تھے

جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گیۓ اور چلے ہی جا رہے ہیں

خدا را

اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔

اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ تا کہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گذار سکیں ۔

آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *