کیا آپ روشنی کے راز جانتے ہیں؟

کیا آپ روشنی کے راز جانتے ہیں؟

ہم سب جانتے ہیں کہ روشنی کی کئی قسمیں ہیں

دیے کی روشنی

چراغ سر راہ کی روشنی

بلب کی روشنی

چاند کی روشنی

سورج کی روشنی

دل کی روشنی

دماغ کی روشنی

روح کی روشنی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ

کیا روشنی ایک مادی حقیقت ہے یا خیالی استعارہ؟

اس کا تعلق بصیرت سے ہے یا بصارت سے؟

جب ہم ماہرین روحانیات سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ نروان اور

enlightenment کی معراج تک پہنچنے کے لیے ہمیں تین قدم اٹھانے پڑتے ہیں

پہلے قدم پہ آپ روشنی کی طرف جاتے ہیں

first step…you go towards the light

دوسرے قدم پہ آپ روشنی میں گھرے ہوتے ہیں

second step….you are in the light

تیسرے قدم پہ آپ خود سراپا روشنی ہوتے ہیں

third step…you are the light

بعض سنت ’سادھو اور صوفی سمجھتے ہیں کہ خدا‘ اللہ اور بھگوان بھی نور ہے روشنی ہے جو ہماری شہ رگ کے بھی قریب ہے جو انسان کے دل میں بستا ہے

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

صاحب طریقت اور راہی منزل سلوک کی روشنی ایسی دانائی اور کشف و کرامت کی روشنی ہوتی ہے جو کھوئے اور بھٹکے ہوئے مسافروں کی خضر راہ بنتی ہے اور ان کا اپنی ذات اور کائنات کے رازوں سے تعارف کرواتی ہے۔

لیکن آج ہمارا موضوع روح کی ’دانائی کی‘ بصیرت کی ’طریقت کی اور نروان کی روشنی نہیں جو ایک استعارہ ہے بلکہ وہ روشنی ہے جو بصارت کی روشنی ہے جو ایک مادی چیز ہے جسے جاننے اور سمجھنے کے لیے ہم صوفی کے پاس نہیں سائنسدان کے پاس جاتے ہیں۔

مادی روشنی اور اس روشنی کا ہماری بصارت کے خصوصی تعلق کو سمجھے کے لیے میں نے اپنے بچپن کے دوست ڈاکٹر سہیل زبیری کو فون کیا کہ وہ مجھے اپنا مقالہ A VERY BRIEF HISTORY OF LIGHT بھیجیں تا کہ میں روشنی کے راز جان سکوں اس کے بھید پہچان سکوں اس کی گتھی سلجھا سکوں اور اس کی پہیلی بوجھ سکوں۔ میں نے اس مقالے سے جو کچھ سیکھا میں اسے عام فہم زبان میں ’ہم سب‘ کے قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ مقالے کی تلخیص اور ترجمے سے پہلے میں یہ عرض کرتا چلوں کہ چوتھا دور بیسویں صدی سے شروع ہوا جب سائنس کی دنیا میں ان گنت حیرت انگیز تبدیلیاں آئیں اور سائنس اور ٹکنالوجی نے ہماری دنیا کو اپنے انقلابات سے بدل کر رکھ دیا۔

اب میں آپ کا ہر دور کے فلاسفروں ’دانشوروں اور سائنسدانوں اور ان کے نظریات سے قدرے تفصیل سے تعارف کرواتا ہوں۔

۔ ۔

پہلا دور۔ یونانی فلاسفروں کا دور

یہ دور یونانی دور تھا جو 800 قبل مسیح سے 200 قبل مسیح تک پھیلا ہوا تھا۔ اس دور کے یونانی فلاسفروں کی قوس قزح میں ارشمیدس ’سقراط‘ افلاطون ’ارسطو پٹالومی اور جالینوس جیسے نابغہ روزگار شامل تھے جنہوں نے فلسفے اور ریاضی‘ اخلاقیات و افلاکیات جیسے علوم میں گرانقدر اضافے ہیں۔ انہوں نے انسانی تہذیب کا منطقی سوچ سے تعارف کروایا اور تنقیدی سوچ کی ایسی بنیادیں رکھیں جن پر آنے والی نسلوں نے سائنس کی مختلف شاخوں کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔

قدیم دور میں روشنی کا تصورایک وہ دور تھا جب مصری قوم کے عوام و خواص یہ سمجھتے تھے کہ روشنی کا تعلق سورج خدا سے ہے جب وہ آنکھ کھولتا ہے تو ساری دنیا میں روشنی ہو جاتی ہے اور دن نکل آتا ہے اور جب وہ آنکھ موند لیتا ہے تو رات ہو جاتی ہے اور چاروں طرف تاریکی پھیل جاتی ہے۔

یونانی فلاسفروں نے نہ صرف روشنی بلکہ روشنی اور بصارت کے تعلق کے بارے میں بھی مختلف خیالات اور نظریات پیش کیے۔

ایک نظریہ افلاطون ( 428 BC۔ 328 BC) کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ روشنی انسانی آنکھ سے نکل کر چاروں طرف پھیل جاتی ہے اور جب وہ کسی چیز کو چھوتی ہے تو انسانی آنکھ پر اس چیز کی ساخت رنگ اور ماہیت واضح ہو جاتے ہیں۔ یہ نظریہ بہت مشہور ہوا اور extramission theory of light کہلایا اور ایک ہزار سال تک مقبول عام رہا۔

دوسرا نظریہ ایپی کیورس ( 341 BC۔ 270 BC) کا تھا ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز ایٹم خارج کرتی ہے اور جب وہ ایٹم انسانی آنکھ تک پہنچتے ہیں تو انسانی آنکھ پر وہ چیز منکشف ہو جاتی ہے

تیسرا نظریہ ڈیموکریٹس ( 460 BC۔ 370 BC) کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا نقش ہوا پر ثبت ہو جاتا ہے اور انسانی آنکھ اس نقش کو پڑھ لیتی ہے اور اس چیز کو جان جاتی ہے۔

یونانی فلاسفر جہاں انسانی آنکھ ’روشنی اور بصارت کے تعلق کی اہمیت و افادیت سے نقاب کشائی کر رہے تھے وہیں وہ انسان‘ کائنات اور افلاکیات کے راز جاننے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ اس حوالے سے کلوڈیس پتولامی کا نظریہ بہت مقبول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ زمین ہماری کائنات کا مرکز اور محور ہے اور سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ اس دور کے پادریوں نے اپنی بائبل کی بہت سی آیتوں کی ایسی تشریح کی جیسے وہ اس نظریے کی تائید کرتی ہوں۔

جب AD 1543 میں نکولس کوپرنیکس نے اپنے مشاہدے اور تحقیق سے پتولامی کے نظریے کی تردید کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو عیسائی دنیا میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور اس نظریے کا عیسائیت اور بائبل کے نظریات کے خلاف سمجھ کر انکار کر دیا گیا۔

دوسرا دور۔ مسلمان فلاسفروں کا دورمسلمانوں کا سنہری دور 750 AD سے 1400 AD تک پھیلا ہوا تھا ’جہاں مسلمانوں نے مختلف ممالک کو فتح کیا وہیں سائنس طب اور نفسیات کے علوم میں گرانقدر اضافے بھی کیے۔ انہوں نے اپنی تحقیقات کے ساتھ ساتھ یونانی دانشوروں کی تخلیقات کے تراجم بھی کیے۔

مسلمانوں کے سنہری دور میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید ( 763 AD۔ 809 AD) نے بغداد میں بیت الحکمت تعمیر کی جس میں مختلف علوم کی تحقیق بھی ہوئی اور تنقید بھی۔ ہارون الرشید کے علمی ادبی اور تحقیقی سلسلے کو ان کے فرزند ارجمند مامون الرشید ( 786۔ 833 AD) نے آگے بڑھایا۔

بیت الحکمت میں سائنس کی اکادمی بھی تھی اور ایک ایسی عظیم الشان لائبریری بھی تھی جس میں ساری دنیا کی سینکڑوں ہزاروں نایاب کتابیں یکجا کی گئی تھیں۔

آٹھویں صدی میں جابر بن حیان ( 721۔ 815 AD) کو کیمسٹری کی خدمات کی وجہ سے بابائے کیمسٹری کہا جاتا ہے۔

اسی طرح الخوارزمی ( 780 AD۔ 850 AD) کو الجبرا کے علم کا موجد قرار دیا جاتا ہے

الکندی ( 800۔ 873 AD) کو پہلا مسلمان فلاسفر سمجھا جاتا ہے

اور الحازن ( 865 AD۔ 1040 AD) کو عدسوں کے علم کا علامہ مانا جاتا ہے۔

مامون الرشید کی ریاست نے باقاعدہ بیت الحکمت کی نگہداشت کی۔ اسی ریاست کی روایت کی پیروی کرتے ہوئے 970 عیسوی میں جامعہ الاظہر اور 1095 AD میں جانعہ النظامیہ تعمیر کیے گئے اور علم و تحقیق کی روشنی کو دور دور تک پھیلایا گیا۔

الکندی وہ پہلے مسلم فلاسفر تھے جنہوں نے یونانی فلاسفر ارسطو کی تخلیقات کے نہ صرف ترجمے کیے بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ یونانی فلسفے اور اسلامی تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں۔ الکندی کے خیالات اور نظریات سے بو علی سینا اور ابن رشد جیسے مسلم فلاسفروں نے بہت استفادہ کیا۔

الکندی نے نہ صرف روشنی کی خصوصیات کا مطالعہ کیا بلکہ روشنی ’آئینے اور سائے کے تعلق کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ الکندی نے افلاطون کے روشنی کے نظریے extramission theory of light میں گرانقدر اضافے کیے۔ الکندی کے نظریات کو بو علی سینا کے خیالات نے اور بڑھاوا دیا۔

سائنس کی تاریخ میں اس نظریے کا سہرا کہ جب روشنی عدسوں سے گزرتی ہے تو مڑ جاتی ہے ویلیبرورڈ سنیلیس کے سر پر سولہویں صدی میں رکھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ہمیں یہ سہرا ابو سعد ابن سہل کے سر پر رکھنا چاہیے جنہوں نے سنیلیس سے چھ سو سال پہلے دسویں صدی میں یہ نظریہ دریافت کیا تھا۔

دسویں صدی کے الحازن نے کتاب المنظر رقم کی جو سات جلدوں پر مشتمل تھی۔ یہ پہلی کتاب ہے جس میں انسانی آنکھ ’روشنی‘ آئینوں ’سایوں اور عدسوں کی خصوصیات کا تفصیلی ذکر کیا گیا۔ الحازن کے شہ پارے کا لاطینی میں ترجمہ بارہویں صدی میں کیا گیا۔ وہ کتاب اگلے پانچ سو برس تک اس موضوع پر سب سے اہم کتاب سمجھی جاتی ہے جس کے بعد نیوٹن کی 1704 AD کی کتاب OPTICKS اولیت اختیار کر لیتی ہے۔

الحازن نے یونانی فلسفیوں کے نظریے کہ روشنی انسانی آنکھ سے نکلتی ہے کو ایک ہزار سال کے بعد غلط ثابت کیا اور یہ ثابت کیا کہ روشنی کا ماخذ لیمپ جیسے مختلف آلے ہیں۔ انہوں نے دیواروں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر کے اور دیوار کی دوسری طرف لیمپ رکھ کر یہ بھی ثابت کیا کہ روشنی کی شعاعیں سیدھی لکیر میں سفر کرتی ہیں۔ اس تجربے سے انہوں نے کیمرہ بنانے کے امکان کو بھی درخشاں کیا۔ الحازن نے دوربین تو ایجاد نہ کی لیکن دوربین کا امکان پیش کیا کہ کس طرح روشنی مختلف عدسوں سے گزرتے ہوئے اپنی خصوصیات بدلتی ہے۔ الغرض الحازن کے نظریات نے روشنی کیمرے اور دوربین کی ایجادات کے لیے بنیادیں فراہم کیں۔

اگر مسلمان فلاسفر اپنے نظریات نہ پیش کرتے اور یونانی فلاسفروں کی تخلیقات کے تراجم نہ کرتے تو مغربی سائنس وجود میں نہ آتی۔ مسلم فلاسفروں نے یونانی فلسفے اور یورپی سائنس کے درمیان ادبی تحقیقی اور نظریاتی پل تعمیر کیے۔

تیسرا دور۔ مغرب کا سائنسی انقلاب

کوپرنیکس نے اپنے مشاہدات اور تحقیقات پر مبنی کتاب کی اشاعت کرنے میں تاخیر کی کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ کہیں گرجے کے شدت پسند بنیاد پرست پادری ان پر فتوے نہ لگا دیں۔

ایک کہاوت کے مطابق کوپرنیکس کی کتاب اس دن چھپ کر آئی جس دن ان کا اس جہان فانی سے جانے کا وقت آ گیا تھا۔ مرتے وقت انہیں بالکل اندازہ نہ تھا کہ ان کی کتاب سائنس اور افلاکیات کی دنیا مین ایک عظیم انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

جب گیلیلیو نے کوپرنیکس کے نظریے کو اپنی دوربین کے مشاہدات سے سائنسی اساس مہیا کی تو گرجے کے پادریوں کا عتاب و عذاب ان پر نازل ہوا اور ان پر 1633 ADمیں بائبل کی مخالفت اور بلاسفیمی کا مقدمہ چلا کر فتویٰ لگایا گیا اور انہیں معاشرے کی روایتوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے بقیہ عمر کے لیے اپنی ہی گھر میں قید کر دیا گیا۔

کوپرنیکس کے بعد جس سائنسدان نے افلاکیات کے علم میں اہم اضافہ کیا ان کا نام جوہرس کیلپر تھا (۔ 1571۔ 1639 ) ۔ ان کے خیالات نے نیوٹن کے کشش ثقل کے نظریے کو سائنسی اساس مہیا کی۔ کیلپر نے 10 جولائی 1600 کے سورج گرہن کا اپنے CAMERA OBSCURAسے مطالعہ کیا اور اپنے مخصوص کیمرے کے تجزیے کو 1604 میں پیش کیا۔ ان خیالات کی وجہ سے PINHOLE CAMERA کا وجود ممکن ہوا۔

کیلپر کے عہد تک روشنی کا مطالعہ بصارت کو سمجھنے کا لیے کیا جاتا تھا۔ رینے ڈیکار0ٹ۔ 1590۔ 1650 BC وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے روشنی کی اپنی خصوصیات جاننے کے لیے اس کا تجزیہ کیا۔ وہ ایک ایسے ریاضی دان تھے جنہوں نے الجبرا اور جیومیٹری کے علوم کے درمیان سائنسی پل تعمیر کیے۔

آئزک نیوٹن۔ 1642۔ 1727 ADکی کتاب PRINCIPAنے CLASSICAL MECHANICSکی عمارت کی بنیاد رکھی اور عمل طبیعات میں گرانقدر اضافے کیے۔

نیوٹن نے ہمیں بتایا کہ روشنی کی کوکھ میں بہت سے رنگ چھپے رہتے ہیں۔ انہوں نے سب کو دکھایا کہ جب سورج کی روشنی ایک خاص عدسے سے گزرتی ہے تو قوس قزح کے رنگ چاروں طرف پھیل جاتے ہیں۔ جب مختلف رنگ پھیلتے ہیں تو وہ مڑتے بھی ہیں سرخ رنگ سب سے کم اور نیلا رنگ سب سے زیادہ مڑتا ہے۔

نیوٹن نے یہ بھی دکھایا کہ جب پرزم کے ایک طرف سے روشنی دوسری طرف جاتی ہے تو ساتھ رنگوں میں بکھر جاتی ہے اور اگر اسے اسی پرزم سے دوسری طرف سے گزارا جائے تو سات رنگ مل کر روشنی بن جاتے ہیں۔

نیوٹن کا خیال تھا کہ روشنی ذروں سے مل کر بنی ہے جبکہ کرسچن ہوگنز نے 1690 ADمیں یہ نظریہ پیش کیا کہ روشنی ذروں سے نہیں لہروں سے بنی ہے۔

اسی عہد میں اولیس رومر نے AD 1679 میں یہ خیال پیش کیا کہ روشنی ایک خاص رفتار سے سفر کرتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ روشنی کی لہریں ایتھر میں جبکہ موسیقی کی لہریں ہوا میں سفر کرتی ہیں۔

روشنی کے لہر ہونے کے نظریے کو تھومس ینگ نے 1802 ADمیں ثابت کیا۔ انہوں نے ایک پردے میں دو سوراخ کر کے اپنے تجربات کیے اور نیوٹن کے روشنی کے ذرات کے نظریے کو رد کر دیا۔ ینگ کے روشنی کے نظریات کو اوگسٹن فریزنل نے بڑھاوا دیا۔

روشنی کے لہر ہونے کے نظریے کو جیمز میکسویل نے معراج پر پہنچایا اور ہم سب کو بتایا کہ روشنی میں بیک وقت دو طرح کی لہریں ہیں۔ برقی بھی۔ مقناطیسی بھی۔ اس لیے روشنی ELECTRO۔ MAGNETIC WAVESپر مشتمل ہے۔ میکسول کے نظریات کو ہنرک ہرٹز نے AD 1888 میں سائنسی ثبوت مہیا کیا۔

چوتھا دور۔ بیسویں صدی کا دور1900 AD تک پہنچتے پہنچتے سائنسدان اپنی تخلیقات اور تحقیقات پر اتنے نازاں ہو گئے تھے کہ ان میں سائنس کی عظمت کا غرور آنے لگا تھا اسی لیے لارڈ کیلون نے سائنس کی کانفرنس میں کہا کہ۔ اب طبیعات کی سائنس مکمل ہو گئی ہے۔ مزید کچھ جاننے کی ضرورت نہیں۔ اب بس جو جانا گیا ہے اس کی تفاصیل پر تحقیق ہوگی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ابھی علم کے آسماں اور بھی ہیں

بیسویں صدی میں نیوٹن کی کلاسیکی مکینکس کی تحقیقات کو البرٹ آئن سٹائن کے خیالات نے چیلنج کیا

QUANTUM MECHANICS

AND

THEORY OF RELATIVITY

کے اصولوں کا تعارف کروایا جس سے سائنس کا پورا منظر نامہ بدل گیا۔

البرٹ آئن سٹائن۔ 1879۔ 1955 AD۔ سائنس کی ایک دیوقامت شخصیت تھے۔ ان کی تحقیقات نے روشنی کی فطرت کے رازہائے سربستہ کو ہم سب پر منکشف کیا۔ 1905 میں آئن سٹائن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ روشنی توانائی کے مرغولوں کی صورت میں سفر کرتی ہے۔ روشنی میں ذرے تو ہیں لیکن وہ غیر معمولی توانائی کے ذرے ہیں جنہیں آئن سٹائن نے فوٹون کا نام دیا۔

آئن سٹائن نے THEORY OF SPECIAL RELATIVITYکا نظریہ بھی پیش کیا جس میں انہوں نے روشنی کی رفتار کے مختلف مادی اجسام پر اثرات پر توجہ مرکوز کی اور E=mc 2 کا فارمولا پیش کیا جس میں توانائی۔ مادے۔ اور رفتار کے تعلق کو اجاگر کیا۔ 1915 AD میں آئن سٹائن نے وقت اور فاصلے کے رشتے اور روشنی کے راستہ بدلنے اور مڑنے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بیس سال کی تحقیق کے بعد 1925 AD میں سائنسدانوں نے نیوٹن کے کلاسیکی نظریات کو پیچھے چھوڑ کر آئن سٹائن کے نظریات کو گلے لگا لیا اور سائنس اور طبیعات کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔

کوانٹم تھیوری کی مقبولیت سے پہلے خلا کو خالی سمجھا جاتا تھا۔ ایسا خلا جس میں نہ روشنی ہے نہ توانائی نہ حرکت۔ جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ خلا اتنا خالی نہیں جتنا ہم پہلے سمجھتے تھے۔ خلا میں ایسی پراسرار چیزیں موجود ہیں جو دکھائی تو نہیں دیتیں لیکن مادی دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ سائنس کی دنیا کے تحیر کا وہ مقام ہے جہاں حاضر اور غائب ’موجود اور غیر موجود آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں۔ یہ سائنس کی معراج کا وہ مقام ہے

؎ جہاں ہونا نہ ہونا ہے

نہ ہونا عین ہونا ہے

بیسویں صدی کی آخری چند دہائیوں میں روشنی کا ایک نیا چہرہ منظر عام پر آیا اور لیزر کہلایا۔ 1950 AD سے پہلے روشنی میں ایک بنیادی بے ترتیبی تھی۔ سائنس نے جب روشنی کی لہروں کو ترتیب دینی شروع کی تو اس سے ان پر روشنی کی نئی خصوصیات اجاگر ہونے لگیں۔ تھیودور میمن نے 1960 AD میں پہلی دفعہ لیزر کی خصوصیات کو استعمال کیا۔

سائنسدانوں نے سورج جیسے روشنی کے قدرتی اور لیبارٹری میں تیار کردہ روشنی کے انسانی منابع میں فرق جانا۔ اس آگہی نے QUANTUM OPTICSکی شاخ کو جنم دیا۔

دھیرے دھیرے سائنسدانوں پر روشنی کی یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ روشنی نہ ذرہ ہے نہ لہر۔ وہ دونوں خصوصیات رکھتی بھی ہے اور نہیں بھی رکھتی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں روشنی پہلے سے زیادہ پراسرار ہو جاتی ہے۔

سائنس کا سفر جاری ہے۔ سچ کی تلاش جاری ہے۔

یہ سفر محفوظ شاہراہوں کا سفر نہیں ہے بلکہ پگڈنڈیوں کا سفر ہے جو ہمیں قوانین فطرت کے سچ کی تلاش میں انجانے راستوں سے انجانی منزلوں تک لے جاتا ہے۔

انسان صدیوں سے اس سفر پر نکلا ہوا ہے اور اس سفر میں بہت کچھ سیکھ رہا ہے

؎ اپنی پہچان کرنے نکلا تھا

ایک عالم سے روشناس ہوا۔

۔ عارف عبدالمتین

یہ کالم تو میں نے سائنس کے طالب علم ہونے کے ناتے مادی روشنی ’خارجی روشنی اور بصارت کی روشنی کے بارے میں لکھا ہے۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ موقع ملا تو آئندہ کبھی نفسیات کا طالب علم بن کر دل کی روشنی‘ داخلی روشنی اور دانائی کی روشنی کے بارے میں رقم کروں ایسی روشنی کے بارے میں جو زندگی کی تاریک راہوں پہ بھٹکے ہوئے مسافروں کے لیے مشعل راہ کا کام کرتی ہے اور انسانوں پر بصارتوں کے ساتھ ساتھ بصیرتوں کے در بھی وا کرتی ہے۔

تحریر

ڈاکٹر خالد سہیل

Check Also

نہ عقل ہے نہ شکل ہے

ہمارے قریب کے دیہات کا ایک واقعہ ہے۔ ایک نوجوان جس کی تعلیم بھی نہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *